عمران خان کے حالات زندگی IMRAN KHAN LIFE HISTORY

                                           


                                                               
عمران خان نیازی

پیدائش25 نومبر 1952 (عمر 60)
میانوالی
سیاسی جماعتتحریک انصاف
ازواججمائما خان (1995 - 2004)
بچے2 (سلیمان اور قاسم خان)
سکونتلاہور
پیشہسیاستدان، فلاحی، کرکٹر
مذہباسلام
موقع جال

تعلیم

تحریک انصاف کے چئیرمین عمران خان نے 
ابتدائی تعلیم لاہور میں کیتھیڈرل سکول اور ایچیسن کالج، لاہور سے حاصل کی اس کے بعد اعلٰی تعلیم کے لیے برطانیہ چلے گئے۔ وہاں رائل گرائمر سکول میں پڑھا اور پھر آکسفورڈ یونیورسٹی سے ایم اے سیاسیات کیا۔ آپ 1974ء میں آکسفورڈ یونیورسٹی کرکٹ ٹیم کے کپتان بھی رہے۔

کرکٹ

فرسٹ کلاس کرکٹ کا آغاز 1969-1970 میں لاہور کی طرف سے سرگودھا کے خلاف کھیلتے ہوئے کیا۔ 1971ء میں انگلستان کے خلاف پہلا ٹیسٹ میچ کھیلا۔

کرکٹ ریکارڈ

ٹیسٹ ریکارڈ

انہوں نے 88 ٹیسٹ میچ کھیل کر 362 وکٹیں 22.81 کی اوسط سےحاصل کیں۔ 1981ء-1982ء میں لاہور میں سری لنکا کے 8 کھلاڑی صرف 58 رنز دے کر آؤٹ کیے۔ اور 23 مرتبہ ایک اننگز میں 5 وکٹیں حاصل کیں۔ انہوں نے 36.69 کی اوسط سے 3807 رنز بنائے جن میں سے 5 سنچریاں بھی شامل ہیں۔ ان کا زیادہ سے زیادہ سکور ایڈی لینڈ میں 1991ء میں آسٹریلیا کے خلاف کھیلتے ہوئے 132 رنز رہا۔ ان کا شمار پاکستان کرکٹ کے کامیاب ترین کپتانوں میں ہوتا ہے۔ اس اعتبار سے وہ پاکستان کے پہلے کپتان تھے جن کی قیادت میں پاکستانی ٹیم نے بھارت کو بھارت اور انگستان کو انگریزی سرزمیں میں ہرایا۔ بطور کپتان انھوں نے 48 ٹیسٹ میچ کھیلے جن میں سے 14 جیتے اور 8 ہارے اور 26 برابر یا بغیر کسی نتیجے سے ختم ہوئے۔

ون ڈے ریکارڈ

پاکستانی کرکٹ ٹیم نے 1992ء میں ان کی قیادت میں کھیلتے ہوئے پانچواں کرکٹ عالمی کپ جیتا۔ یہ اعزاز ابھی تک پاکستان صرف ایک دفعہ ہی حاصل کر سکا ہے۔ انھوں نے 175 ایک روزہ میچوں میں حصہ لیا۔ اور 182 وکٹیں حاصل کیں۔ 3709 رنز 33.41 کی اوسط سے بنائے۔ ان کا زیادہ سے زیادہ سکور 102 ناٹ آؤٹ تھا جو انہوں نے سری لنکا کے خلاف 1983ء میں کھیلتے ہوئے بنائے۔ ان کی قیادت میں 139 ایک روزہ میچ کھیلے گیے جن میں سے 77 جیتے 57 ہارے، چار بے نتیجہ رہے جبکہ 1 میچ برابر رہا۔
  • انہوں نے مجموعی طور پر 5 عالمی کرکٹ کپ میں حصہ لیا جو کہ 1975ء، 1979ء، 1983ء، 1987ء اور 1992ء میں منعقد ہوئے۔

ذاتی زندگی اور سماجی کام

شوکت خانم میموریل اسپتال

عالمی کرکٹ کپ معقدہ 1992ء کے بعد بین الااقوامی کرکٹ سے رٹائرڈ منٹ لے لی۔ اس کے بعد سماجی کاموں میں حصہ لینا شروع کیا۔ اور کینسر کے مریضوں کے لیے ایشیا کو سب سے بڑا اسپتال شوکت خانم میموریل اسپتال، لاہور ایک ٹرسٹ کے ذریعے قائم کیا۔ عمران خان پاکستانیوں کو اس اسپتال کا بانی قرار دیتے ہیں۔

قومی اور بین الااقوامی ایواڈز

انہیں حکومت پاکستان کی جانب سے صدراتی ایوارڈ بھی ملا۔ علاوہ ازیں 1992ء میں انسانی حقوق کا ایشیا ایوارڈ اور ہلال امتیاز (1992ء) میں عطا ہوئے۔ آپ ابھی براڈفورڈ یونیورسٹی، برطانیہ (University of Bradford) کے چانسلر کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔

الزامات اور شہرت

عمران خان نہ صرف کرکٹ میدان اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا چکے تھے بلکہ میدان سے باہر بھی ان کی شخصیت کافی متاثر کن تھی۔ کبھی انھیں پلے بوائے کی نام سے پکارا گیا تو "کبھی بڑا سنجیدہ سماجی کارکن" کے نام سے ابھرے۔ انھیں ایک آسٹریلین اخبار Oz نے "Sexiest Man of The Year" کا خطاب بھی دیا۔

جمائما خان سے شادی


جمائما خان عمران خان کے ساتھ ایک سیاسی جلسہ میں شریک ہیں
1995ء میں عمران خان نے مرحوم برطانوی ارب پتی، سر جیمز گولڈ سمتھ کی بیٹی، جیمیما گولڈ سمتھ سے شادی کی۔ جیمیا گولڈ سمتھ نے شادی سے پہلے اسلام قبول کر لیا اور ان کا اسلامی نام جمائما خان ہے۔ اس شادی کا شہرہ پوری دنیا میں ہوا اور عالمی میڈیا نے اس کو خصوصی اہمیت دی۔ 22 جون، 2004ء کو انھوں نے طلاق کا اعلان کیا۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ وہ اپنی مصروف زندگی کی وجہ سے انھیں وقت نہیں دے پاتے تھے۔

سیاسی زندگی

25 اپریل، 1996ء کو تحریک انصاف قائم کرکے سیاسی میدان میں قدم رکھا۔ ابتدائی طور پر انھیں کامیابی نہ مل سکی۔ لیکن حالیہ دنوں میں وہ اپنی جدوجہد اور اصول پرستی کی بدولت پاکستانی عوام، خصوصا نوجوانوں میں تیزی سے مقبولیت حاصل کر رہے ہیں۔ اس وقت انہیں پاکستان کی قومی اسمبلی میں ایک سیٹ (0.8%) حاصل ہے جبکہ ان کی جماعت کو ایک سیٹ سرحد صوبائی اسمبلی میں بھی میسر ہے۔
3 نومبر 2007ء کو فوجی آمر پرویز مشرف کے "ہنگامی حالت" کے اعلان کے بعد آپ کو نظربند کرنے کی کوشش کی گئی، تاہم وہ پولیس کو جُل دے کر "فرار" ہونے میں کامیاب ہو گئے۔[1] 14 نومبر کو پولیس نے انھیں گرفتار کر لیا۔ انتظامیہ کے مطابق ان پر "دہشت گردی" قانون کے تحت مقدمہ بنایا جائے گا۔ عمران نے کہا ہے کہ ان کی زندگی اور کراچی میں تحریک انصاف کے کارکنوں کی زندگی کو خطرہ لاحق ہے کیونکہ برطانوی حکومت نے متحدہ قومی موومنٹ کے لندن میں مقیم سربراہ الطاف حسین کے خلاف کوئی قدم نہیں اُٹھایا جس سے یہ لوگ شیر ہو کر تشدد کی کاروائی کر سکتے ہیں۔ دنیا بھر کی اخبارات نے عمران کی فوجی آمر پرویز مشرف کے خلاف جدوجہد کو سراہا ہے۔] 18 نومبر کو عمران خان نے ڈیرہ غازی خان جیل میں بھوک ہڑتال شروع کی۔] 22 نومبر کو اچانک رہا کر دیا گیا۔

فلم

عمران خان کی جدو جہد پر 2013 میں ایک فلم ریلیز ہونے والی ہے جس کا نام ہے کپتان جس میں عمران خان کے 1992 سے لے کر 2013 تک کے عوامی تبدیلی تک کے ادوار کو دکھایا جائے گا ۔ واضح رہے کہ مذکورہ فلم کی سرمایہ کاری و پیش کاری کا عمران خان اور اس کی تنظیم سے کوئی تعلق نہیں اور یہ ایک قطعی غیر وابستہ منصوبہ ہے جو کہ فلم اور میڈيا سے تعلق رکھنے والوں کی طرف سے بنائی گئی ہے ۔

انتخابی مہم میں زخمی

انتخابات سے صرف چار دن قبل 7 مئی 2013ء کو ایک فورک لفٹ سے گرنے کے بعد عمران خان کو لاہور میں شوکت خانم ہسپتال لے جایا گیا۔ طبی معائنے کے بعد بتایا گیا کہ عمران خان بخریت ہیں کوئی تشویش ناک بات نہیں۔ اس سانحے کی وجہ سے پاکستان تحریک انصاف کے جلسے منسوخ کر دیے گئے۔ 

خود نوشت

No comments:

Post a Comment